pakistan, Multan, Emarkaz, Urdu, Poetry, Shop Online, Digital Maps, EShop, Emart, Craft, bazar, blog, earn mony, adsense, adword

زلزلوں کي ماں

جب کائنات کا عظيم ترين زلزلہ آئے گا کيا تب بھي ايسے ہي ہوگا جيسے اس وقت ہوا۔۔۔ جب بحر ہند ميں انڈونيشيائي جزيرے سماٹرا ميں زلزلہ بپا ہونےکے وقت ہوا؟ بھارت سے مالديپ تک،تھائي لينڈ سے بنگلا ديش تک،انڈونيشيا سے ملائيشيا تک اور صوماليہ سے کينيا تک واقع سينکڑوں جزيرے سياحوں کے ليے جنت کي حيثيت رکھتے ہيں۔۔۔ سچ فرمايا ابدي حقائق بيان کرنے والي مبارک زبان نے۔"دنيا مومن کے ليے قيد خانہ اور کافر کے ليے جنت ہے۔۔۔"ان مصنوعي جنتوں ميں يوں تو سارا سال ہي رش رہتا ہے۔۔۔ مگر کرسمس اور نيو ائير نائٹ[سال نو]کي آمد پر يہاں کھوے سے کھوا چھلتا ہے، پوري دُنيا سے عياش اور لذت پرست مردوزن شرم و حيا کے سارے پردے چاک کرکے ان جزيروں ميں جمع ہوجاتے ہيں۔ پھر سمندر کے نيلے،کالے اور سرخ و سفيد پانيوں کے بيچوں بيچ خالق کائنات کے بنائے ہوئے ان خشک مگر ظاہري حسن سے مالا مال تختون پر وہ سب کچھ ہوتا ہے۔جو شيطان چاہتا ہے۔بحروبر کا مالک اللہ، ارض و سما کا مالک اللہ،جسم و جاں کا مالک اللہ،آب و ہواکا مالک اللہ،ماکولات ومشروبات کا مالک اللہ، مگر اس زمين پر اس کے خيمے تلے، اس کي فضاؤں ميں سانس لے کر اور اس کي نعمتيں کھا کر انسان اس کا ہر حکم تسليم کرنے سے انکار کر ديتا ہے مگر بےزبان سمندر،بے شعور زمين اور عقل سے خالي ہوا۔۔۔ اس کے حکم سے سرتابي نہيں کرتے۔ان کي حرکت اور سکون اللہ سے ہوتا ہے، وہ جب چاہتا ہےان عناصر وجمادات سے براہ راست خطاب کرتا ہے۔يہ ہماري بات تو نہيں سمجھتے۔۔۔ مگر اپنے مالک کي بات سمجھتے ہيں اور اس کے مطابق عمل بھي کرتے ہيں۔

حضرت نوح عليہ السلام کے زمانے ميں بھي ايسے ہي ہوا تھا،زمين اُبل پڑي، آسمان کئي دن تک مسلسل برستا رہا، پاني کي موجيں پہاڑوں کي چوٹيوں تک جا پہچيں۔کوئي جھونپڑا بچانہ محل کچا مکاں نہ پختہ،انسان نہ حيواں،بس وہي بچے جو کشتي نوح ميں سوار تھے۔جنہوں نے فلک بوس چوٹيوں پر پناہ لے لي تھي وہ بھي غرقاب ہوکر رہے۔صاحب عزيمت پيغمبر کے حقيقي بيٹے کو بھي طوفاني لہريں ديکھتے ہي ديکھتے نگل گئيں۔

دعائے رحمت ونجات کے ليے ہاتھ اُٹھے مگر يہ کہہ کر قبوليت سے انکارکر ديا گياکہ جس کے اعمال ہماري مرضي کے مطابق نہيں اسے نجات نہيں مل سکتي چاہے وہ پيغمبر کا بيٹا ہي کيوں نہ ہو؟ جب وہ سب کچھ ہو چکا جس کے کرنے کا فيصلہ کيا گيا تھا۔۔۔ مجرموں،متکبروں اور سرکشوں کے ناپاک وجود سے زمين کو پاک کر ديا گيا تب ارض وسما کے مالک نے اُبلتي ہوئي زمين اور برستے ہوئے آسمان سے براہ راست خطاب کيا: "اور حکم ديا گيا کہ اے زمين اپنا پاني نگل جا اور اے آسمان تھم جا۔پاني خشک ہو گيا اور کام تمام کر ديا گيا اور کشتي کوہ جودي پر جا ٹھہري اور کہہ ديا گيا کہ ظالم لوگوں پر لنعت ہو۔

ہزاروں لاکھوں سال سے ايسا ہي ہوتا چلا آرہا ہے۔26دسمبر2004 ء کو بھي يونہي ہوا۔۔۔جنگلوں،جزيروں۔سمندروں،پہاڑوں، ميدانوں،ديہاتوں اور شہروں کو گناہوں کي نجاست سے آلودہ کرنے والا انسان غفلت ميں ڈوبا ہوا تھا، موج مستي تھي، ہلا گلا تھا، غل غپاڑاتھا، ميوزک کا شور تھا،شراب و شباب کي مدہوشي تھي۔۔۔ يہ سب کچھ کرسمس يعني حضرت عيسٰي عليہ السلام کے يومِ ولادت کے نام پر ہو رہا تھا۔يہاں يہ بھي جان ليجيے کہ حضرت عيسٰي عليہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے تقريباً تين سو سال بعد تک ان کا يوم پيدائش منانے کا کوئي تصور نہ تھا۔تين صدياں گزرنے کے بعد جب يہ سلسلہ شروع ہواتو اس کا آغاز تقدس کي چادر ميں لپٹا ہواتھا،چرچ ميں عيسائي جمع ہو جاتے اور کوئي پادري ان کے سامنےحضرت عيسٰي عليہ السلام تعليمات اور سيرت بيان کرديتا۔۔۔ بعد ميں آنے والوں نے اس پروگرام کي خشکي اور بے رونقي ختم کرنے کے ليے اس ميں موسيقي کا اضافہ کر ديا۔ موسيقي آئي تو اس کا جڑواں بھائي رقص و سرود بھي آگيا۔ناچ گانے نے اپنا رنگ جمايا تو شراب نوشي قماربازي،جوا اور زنا جيسي دوسري نجاستيں بھي اس ميں شامل ہوگئيں۔اب حال يہ ہے کہ کرسمس کے دنوں ميں جتني شراب پي جاتي ہے پورے سال اتني نہيں پي جاتي،جتنے حادثات ہوتے ہيں اتنے پورے سال نہيں ہوتے،جتني بدکاري اور اور عصمت دري ہوتي ہے پورے سال نہيں ہوتي اور يہ سب کچھ حضرت عيسٰي عليہ السلام کے يوم ولادت کے نام پر ہوتا ہے،[بدعت کي ان تباہ کاريوں سے ان مسلمانوں کو عبرت حاصل کرني چاہيے جو عيسائيوں کي ديکھاديکھي سروردوعالم صلي اللہ عليہ وسلم کے يوم ولادت کے نام پر في الحال تقدس کي چادر ميں لپٹا ہوا جشن منانے کے حامي ہیں] 26 دسمبر کو جب کرسمس کا جشن منانےوالے عيش وطرب ميں مدہوش تھے تب بحروبر کے مالک نے زمين کو حرکت کرنے کا حکم ديا۔اس حکم کي تعميل ميں سمندر کے فرش سے چند ميل نيچے گہرائي ميں زلزلہ پيدا ہوا،اس کي شدت نے سمندر کے فرش پر سڑھيوں کے انداز ميں تقريباً1000 کلو ميٹر طويل دراڑ پيداکر دي اور سمندر ميں عظيم ديو قامت لہريں پيدا ہوگئيں۔500 ميل في گھنٹہ کي رفتار سے سفر کرتے ہوئے سونامي لہريں کوئي دو گھنٹوں ميں سري لنکا کے ساحل سے جا ٹکرائيں۔۔۔ پھر اس سے آگے بڑھ کر انڈيا اور افريقہ کے مشرقي ساحل تک پہنچ کر حملہ آور ہوگئيں۔زلزلے کي قوت اور شدت کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ زلزلے کے مرکز سے سينکڑوں بلکہ ہزاروں ميل دور واقع سنگا پور سے لے کر شمالي تھائي لينڈ کے شہر چيانگ مائي اور بنگلاديش اور صوماليہ کے ساحلي شہروں ميں کھڑي عمارتيں بھي ڈگمگا کر رہ گئيں،ديکھتے ہي ديکھتے گيارہ ممالک اس سمندري طوفان کي زد ميں آ گئے۔تادم تحرير دو لاکھ سے زيادہ اموات کي تصديق ہو چکي ہے۔لاکھوں بے گھر ہوگئے، ہزاروں عمارتيں تباہ ہو گئيں،سينکڑوں چھوٹے جزيرے غرق ہو گئے۔ انسان کي ٹيکنالوجي، بچاؤ کے آلات اور حفاظتي انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے۔کاريں اور ٹرک،بسيں اور ريل گاڑياں خس و خاشاک کي طرح بہہ گئيں۔کئي دن گزرنے کے باوجوداب بھي کئي شہروں اور ديہاتوں ميں پاني کھڑا ہے اور اس مين انساني لاشيں تير رہي ہيں۔ماہرين ارضيات بتاتے ہيں۔کہ اس طاقتور زلزلے سے زمين اپنے مدار پر حل گئي ہے اور علاقے کا نقشہ تبديل ہوگيا ہے۔انڈويشيا کے جزيرے سماٹرا سميت گردونواح کے چھوٹے چھوٹے جزيرے اپنے اصل مقام سے تقريباً20 ميٹر تک  سرک گئے ہيں۔ايک دوسرے ماہر کا کہنا ہے کہ اتوار کا آنے والے زلزلے کي شدت دس لاکھ ايٹم بمون کے دھماکے کرنے کے برابر تھي۔

يہ تو اس زلزلہ کا حال ہے جس نے محدود سے علاقے کو متاثر کيا ہے،کيا مناسب نہيں کہ گردو پيش سے توجہ ہٹا کر کچھ دير کے ليے اس زلزلے کے بارے ميں سوچ لياجائےجسے خالقِ کائنات نے خود''شئ عظيم" [بہت بڑي چيز] قرار ديا ہے۔جب وہ زلزلہ برپا ہو گا تو سورج بے نور ہوجائےگا،آسمان کي قنديليں بجھ جائيں گے۔پہاڑ دھنکي ہوئي روئي رنگين اون کي طرح فضا ميں بکھر جائيں گے۔محبوب ترين سوارياں بے کار کھڑي ہوں گي،ان کي طرف نظر اُٹھانے کي بھي فرصت نہيں ہوگي۔بڑے بڑے سمجھدار،تيز طرار اور دُنياکو اُنگليوں پر نچانے والے انسان پتنگوں اور کيڑے مکووڑں کي طرح بے سوچے سمجھے مارے مارے پھررہے ہوں گے،والدين اپني اُولاد کو اور اولاد والدين کو،شوہر بيوي کواور بيوي شوہر کو،احباب اور قرابت دارايک دوسرے کو بھول جائيں گے۔۔۔جب صرف بحرہند کے ايک جزيرے ميں آنے والےزلزلہ کي شدت دس لاکھ ايٹم بموں کے برابر ہے۔تو جو زلزلہ سارے سمندروں اور زمين پر برپا ہوگااس کي شدت نہ معلوم کتنے کروڑ  ايٹم بموںکے برابر ہوگي۔اس چھوٹےسے زلزلے نے زمين کواپنے مدار سے ہلا ديااور علاقے کا نقشہ تبديل کرديا ہے۔۔۔ توقيامت کا زلزلہ اللہ جانے کيا قيامت ڈھائےگا؟تب انسان اپنے آپ کو قطعًا بے بس محسوس کرے گا،اسکي سائنسي ترقي اور مادي ايجادات اس کے کسي کام نہيں آئيں گي۔۔۔ ليکن انسان غافل ہےوہ آنکھوںسے بہت کچھ ديکھتا اور کانوں سے سنتا ہے پھر بھي نہ اسے موت ياد آتي ہے، نہ قيامت کا تصور پريشان کرتا ہے۔جب کائنات کا عظيم ترين زلزلہ آئےگا تب بھي ايسے ہي ہو گا جيسے بحرہند ميں زلزلہ بپا ہونے کے وقت ہوا۔دکانيں کھلي ہوں گي،بازاروں ميں گہما گہمي ہو گي، تاجر نقدي شمار کر رہے ہوں گے۔بھاؤ تاؤ ہورہے ہوں گے۔جزيرے آباد ہوں گے،ہلا گلا ہوگا،موج مستي ہوگي،جام و سبو ٹکرارہے ہوں گے عظيم ترين زلزلہ برپا ہوجائے گا۔اسے اگر کائنات ميں آنے والے زلزلوں کي ماں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

کاش :دُنياوي آفات اور زلزلوں سے بچنے کا سامان کرنے والا انسان زلزلوں کي ماں سے بھي بچنےکا کچھ سامان کر ليتا۔

 
يہ صفحہ اپنے احباب کو بھيجيں تمام جملہ حقوق بحق من موجي ويب ڈويلپرز محفوظ ہيں