pakistan, Multan, Emarkaz, Urdu, Poetry, Shop Online, Digital Maps, EShop, Emart, Craft, bazar, blog, earn mony, adsense, adword

 Urdu Font Download يہ عبرت کي جا ھے تماشا  نہيں  ہے۔

بيان "مولانا طارق جميل صاحب"

ميرے محترم بھائيو اور دوستو۔اللہ تعالی نے جو کچھ بنايا ہے وہ سب اسي کا ہے۔ملک بھی اس کا ملکيت بھی اسکی۔ اس کائنات کو اس نے رنگا رنگ مخلو قات سے بھی سجايا،خوشيوں کے نغمےبھی سنائے، رنج و غم دکھ دينے والي داستانوں کو بھي بکھيرا۔ يہ زندگي کا حصہ ہے۔ کبھي آنسو کبھي مسکراہٹيں کبھي زندگي کبھي موت ، کبھي عروج کبھي زوال۔ يہ ميرے رب کي آزمائش کا ايک نظام ہے جس کے ذريعے وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔کبھي خوشياں دے کر کبھي غم دے کر۔۔۔۔ کسي کو بلندياں دے کر کبھي پستياں دے کر ۔۔۔ کسي کو تختے پر چڑھا کر کسي کو تخت پر بٹھا کر ۔۔۔ کسي کو بھکاري بنا کر کسي کو بادشاہ بنا کر۔۔۔ کسي کو حسن دے کر کسي کو بد صورتي دے کر۔۔۔ کسي کو مشہور کر کے کسي کو گمنام کر کے۔۔۔ کسي کو صحت دے کر کسي کو مريض بنا کر۔۔۔ کسي کو غني بنا کر کسي کو فقير بنا کے۔۔۔ يہ اس مالک کا نظام ہے۔ وہ اس طرح اپنے بندوں کوپر کھتا ہے ديکھتا ہے۔يہ جہاں امتحاں کي جگہ ہے۔ يہ جہاں آزمائش کي جگہ ہے۔ يہ جہاں امتحان گاہ ہے۔امتحاں کا کمرہ ہے۔يہ رہنے کي جگہ نہيں ہے، يہ راحت کي جگہ نہيں۔ يہ خوشيوں کي جگہ نہيں۔ يہ اسطرح جہان ہے۔ليکن ايک عرصہ سے ہم نے اسے رہنے کي جگہ سمجھا ہوا ہے۔

جب اللہ اپني حکمت سے کسي چيز کو ظاہر کرتا ہے۔تو انسا نيت پکار اٹھتي ہے يہ کيوں کر ديا۔؟ يہ کيوں ہو گيا ہے؟ يہ پہلے بھي ھوا يہ آج بھي ہوا يہ پھر بھي ہو گا يہاں تک کہ ايک بڑا زلزلہ آئے گا۔۔۔ کانوں کے پردے پھاڑنے والي،چير دينے والي ايک خوفناک آواز سنائي دے گي۔سننے والے انسان بھي ہوں گے اور جنات بھي ہوں گے۔۔۔ القارعہ۔۔۔۔۔۔وہ آواز جو کانوں کو پھاڑ دے۔۔ کچھ خبر ہے وہ کيا ہے؟ تمہيں معلوم نہيں ہوسکتا وہ کيا ہے۔اس سے کيا ہو گا؟ اس سے گھر نہيں گريں گے۔ صرف گھر نہيں گريں گے اس سے کيا ہو گا؟ يوم يکون الناس کالفراش ال مب ث وث۔۔۔۔انسان ہوا ميں اڑ جائيں گے پتنگوں کي طرح۔ پہاڑ ٹوٹيں گے نہيں  وتکون الجبال کالعھن المنفوش۔۔۔ يہ روئي بن جائيں گے۔ روئي بھي وہ جسے دھنا گيا ہو وہ روئي نہيں جس کا ڈھير پڑا ہے۔ وہ ٹھوس شکل ميں ہوتي ہے۔جسے دھن ديا جائے وہ ريشہ ريشہ ہو کر ہواميں بکھر جاتي ہے۔ يہ دينا ايک دن اس منظر کو بھي ديکھنے والي ہے۔کہ ہماليہ پہاڑ  بھي روئي کے گالوں کي طرح تيرے گا اور انسان پتنگيں بن کر اڑيں گے۔ اور۔۔۔ دودھ پينے والے بچے کو ان کي مائيں ٹوکري کي طرح اچھال کر پھينک ديں گي اور ۔۔۔ حمل واليوں کے حمل گر جائيں گے يہ کس لئے ہو گا؟ ۔۔۔ايک چھوٹا زلزلہ ديکھا کر اللہ بھولے ہوئے انسانوں کو قيامت کا زلزلہ ياد کروا رہا ہے۔دينا کو گھر سمجھنے والوں کو اللہ اس کے فاني ہونے کا منظر دکھا رہا ہے۔ اسے رہنے کي جگہ سمجھنے والوں کو اللہ تعالي گزر گاہ دکھا رہا ہے۔

    اے ميرے بندو اے انسانو۔ تمہيں ياد ہے ميں تمہيں ياد دلاؤں؟ تھوڑے سے پہاڑ ہلا ئے چند گھر گرے چند جانيں قبض ہوئيں۔ وہ کيا دن ہو گا جب آسمان تھرتھرائے گا۔۔۔ جب پہاڑ لرز اٹھيں گے۔۔۔ زمين کپکپا اٹھے گي۔۔۔ سورج اندھا ہو جائے گا۔۔۔ چاند بے نور ہوجائے گا۔۔۔ تارے ٹکرا جائيں گے۔۔۔ حمل واليوں کے حمل گر جائيں گے۔۔۔ شہنشاہ اپنے تخت وتاج بھول جائيں گے۔۔۔ خوشيوں کے نغمے بھول جائيں گے۔۔۔ شير اپني دھاڑ بھولے گا۔۔۔ ھاتھي اپني چنگھاڑ بھولے گا ۔۔۔بھڑيا اپنا غرانا بھول جائيں گے۔۔۔کوئل اپنا نغمہ بھولے گي۔۔۔ عقاب اپني اڑان بھولے گا۔۔۔سانپ اپني پھنکار بھولے گا۔۔۔ پاني بہنا بھول جائے گا۔۔۔ پھول کھلنا بھول جائيں گے۔۔۔انسان گنگ ھو جائيں گے۔۔۔آنکھيں پھٹ جائيں گي۔۔۔آسمان پھٹ جائے گا۔۔۔ يہ سورج کو کيا ہوا۔۔۔؟ کيوں بے نور ہو رہا ہے؟ چاند کو کيا ہوا ؟کيوں ہميشہ چاندني بکھرنے والا آج اپني ذات ميں کيوں پارا پاراہوا جا رہا ہے؟تاروں کو کيا ہوا جو ہميشہ مسکراتے نظر آتے تھے آج ان پر بھي گريہ طاري ہو گيا۔يہ کيا ہو گيا ہے؟۔۔۔يہ وہ بڑا ہنگامہ ہو گيا ہے۔ يہ وہ بڑ ي آواز آئي ہے۔ وہ خوفناک حقيقت سمنے آگئي ہے۔۔۔ الحاقہ۔۔۔ حقيقت۔۔۔حقيقت۔۔۔ حقيقت۔۔۔ تم نے کسے حقيقت سمجھا؟ فيصل آباد کو، پاکستان کو،ہند و سندھ کو اپني چھوٹي چھوٹي فيکٹريوں کو۔ اپنے چند سکول کو تم نے حقيقت سمجھا اور رب کريم کي بتائي ہوئي حقيقت کو بھلا بيٹھے۔ الحا ق ہ۔۔۔وہ حقيقت ہے کيا۔۔۔؟وہ حقيقت ہے کيا۔۔۔؟کليجے پگھلنے لگے، پتے پاني ہوگئے، زبانيں گنگ ہوگئيں، آنکھيں کي پتلياں پھيل گئيں، حيران پريشان کہ ايک آواز پھر اٹھي۔۔۔ وما ادر ٰ اک ما الحاقہ۔۔۔ وما ادر ٰ اک ما الحاقہ۔۔۔ وما ادر ٰ اک ما الحاقہ۔۔۔کچھ خبر بھي ہے۔وہ حقيقت کيا ہے؟تم جان بھي نہيں سکتے وہ حقيقت کيا ہے؟وہ بہت بڑ اہنگامہ ہے۔جو اس زمين کو زيرزبر کرے گا۔جو اللہ کے سوا ہر چيز کو تباہ و برباد کر دے گا۔ہر چيز موت کے اندھيروں ميں دھکيل دي جائے گي۔ اس کائنات پر اللہ کا راج ہو گا۔وہي شہنشاہ ہے۔ مٹي سے انسان بنايا، مٹي سے پھول سے بنائے، مٹي سے درخت بنائے، مٹي سے پتھر نکالے،مٹي سے ہيرا نکالا،مٹی سےاللہ تعالي نے جوہرات کو نکالا موتيوں کو نکالا، زمرد ياقوت کو نکالا، اللہ تعالي نے اس مٹي ميں پھر دوبارہ گرا کے دکھايا کہ يہ سب مٹي ہے۔ يہ دوھوکے کا گھر ہے۔ يہ مچھر کا پر ہے، يہ ايک مکڑي کا جالا ہے،يہ جگہ جي لگانے کي نہيں ہے۔

جہاں ميں ہيں عبرت کے ہر سو نمونے

مگر تجھ کو اندھا کيا رنگ و بو نے

کبھي غور سے يہ بھي ديکھا ہے تونے

جو معمور تھےوہ محل اب ہيں سونے

جگہ  جي لگانے کي  دنيا  نہيں  ہے

يہ عبرت کي جا  ہے تماشا نہيں  ہے

ملے خاک ميں اہل شاں کيسے کيسے

ہوئے  نامور  بے نشاں  کيسے  کيسے

زميں کھا  گئي آسماں  کيسے  کيسے

جگہ  جي لگانے  کي  دينا  نہيں   ہے۔

يہ  عبرت  کي  جا  تماشا  نہيں  ہے۔

تجھے  پہلے بچپن نے برسوں  کھلايا

جواني  نے  پھر  تجھ کو مجنون  بنايا

بڑھاپے  نے  پھر  آکے  کيا  کيا  ستايا

اجل تيرا  کر  دے  گي  بالکل  صفايا

جگہ  جي  لگانے  کي  دنيا  نہيں  ہے

يہ  عبرت  کي  جا  تماشا  نہيں   ہے۔

يہي تجھ کو دھن ہے رہوں سب سے اعلي

ہو   زينت   نرالي   ہو   فيشن   نرالا

جيا کرتا ہے  کيا  يونہي  مرنے  والا

تجھے حسن ظاہر نے دھوکے ميں ڈالا

جگہ  جي  لگانے کي  دنيا  نہيں  ہے

يہ عبرت  کي  جا  تماشا  نہيں  ہے۔

    شاعر کي بھي سني رب  کي بھي سنو۔۔۔ سنو سنو مال کي دوڑ لگانے والو۔۔۔ اے حقيقي جہاں سمجھنے والو۔۔۔ يہ کھيل تماشاہے۔يہ دھوکے کا گھر ہے، يہ مچھر کا پر ہے،يہ مکڑي کا جالا ہے، چند دن کي بہار ہے،پھر ہميشہ کي خزاں ہے،چند دن کي روشنياں ہيں پہر ہميشہ کے اندھيرے ہيں۔ اس سے جي نہ لگاؤ، يہ امتحان کي جگہ ہے،يہاں اللہ کا راج ہے،جو چاہے گا وہ کر کر دے گا اسے کوئي روک نہ سکے گا،اس کائنات ميں اللہ تعالي کا ايک محکم نظام ہے۔جب اللہ کے بندے اس سے باغي ہوتے ہيں،تو پھر اپني مخلوق ميں سے کسي مخلوق کو استعمال فرماتا ہے۔يہ اللہ کا طريقہ شروع سے چلا آ رہا ہے۔آج زلزلہ نہيں آيا۔۔۔پہلے بھي آئے تھے۔پھر بھي آئيں گے۔ پانيوں کے طوفان آج نہيں اٹھے پہلے بھي اٹھتے چلے آئے۔آيندہ بھي اٹھتے رہيں گے۔يہاں تک کے انسان باقي نہ بچے۔يہاں تک ايک انسان باقي نہ بچے، يہ مٹا دينے کيلئے بناياگيا جہان ہے اللہ تعالي کا ايک محکم قانون ہے۔جب لوگ اللہ سے ٹکراتے ہيں تو اللہ تعالي اپني مخلوق کو استعمال کرتا ہے۔۔۔ کسي پر پتھر برسائے گئے۔۔۔ کسي پر فرشتے کي چيخ۔۔۔کئي زمين ميں دستے چلے گئے۔۔۔کسي کو پانيوں سے بہا ديا گيا۔يہ پاني،يہ ہوا، يہ دھرتي، يہ پتھر، يہ بارش، يہ بادل، يہ بجلي، يہ گرج، يہ سب ميرے اللہ کي مخلوق ہے۔ جب بندے اس کي کي مانتے ہيں انکو خدمت پر لگاتا ہے۔جب بندے باغي ہو جاتے ہيں۔انہي کے ذريعے اپني نشانياں دکھاتا ہے۔ميرے بھائيو اللہ کي رحمت اس کے غصے پر حاوي ہے۔ اللہ کا کرم اس کي پکڑ پر حاوي ہے۔اس کے عرض کے اوپر تختي ہے اس پر لکھا ہے۔ ميري رحمت ميرے غصے سے آگے ہے۔

ميرے بندو۔۔۔ تم زلزلے سے گھبراگئے ہو۔ تمہارے کرتوت ايسے ہيں۔کہ اگر ميں سزا دينے پر آؤں تو ايک بھي زندہ نہ چھوڑوں۔ ايک بھي دھرتي پر زندہ رہنے کا حق دار نہ بچے۔۔۔ ليکن ميں کيا کرتا ہو ں ميں ايسا نہيں کرتا ہوں۔۔۔ کيا ميں تمہيںزمين مين نہيں دھنساسکتا۔۔۔؟يا اچانک ميرے عذاب کے کوڑے تم پر نہيں برس سکتے۔۔۔۔يا بازار لوگوں سے بھرے ہوئے ہوں اور ايک دم ميراعذاب برسے تو کيا يہ نہیں ہو سکتا۔۔۔؟يا تو تمہيں ڈارا ڈارا کے ترسا ترسا کے ہلاک کردوں يہ سب کچھ ميں کر سکتا ہوں۔۔۔ زمين تمہيں اندر لے سکتي ہے، ميں دھنسا سکتا ھوں۔۔۔۔ تم پر پتھروں کي بارش میں برسا سکتا ہوں۔۔۔ کيوں نہيں کرتا ہوں۔۔۔ کيوں نہيں کرتا۔۔۔ کيوں نہيں کرتا۔۔۔ميں رؤف ہوں ميں رحيم ہوں۔۔۔

حضرت عائشہ رضي اللہ عنہا سے پوچھا گيا زلزلے کيوں آتے ہيں؟ايک سبب ظاہر ميں نظر آ رہا ہے جو جيالوجسٹ بتاتے ہيں کہ زمين کي پليٹيںآپس ميں ٹکراتي ہيں تو زمين کپکپا اٹھتي ہے، نظر تو يہي آئے گا۔ بادل آتے ہین اور بارش برستي ہے۔ ہوا چلتي ہے۔ تو چھتيں اڑتي ہيں۔ہوا کس نے چلائي؟بادلوں کو کون لايا؟زمين کو کس نے ٹکرايا؟ پانيوں کو کس نے بے لگام کيا؟ پتھروں کا ڑخ زمين کي طرف کيوں ہو گيا؟ کس نے کيا؟ يہ زمين کے ماہر نہيں بتا سکتے، يہ ہواؤں کے ماہر نہيں بتا سکتے، يہ پانيوں کے ماہر نہيں بتا سکتے۔يہ پہاڑوں کے ماہر نہيں بتا سکتے۔ يہ سمندروں کے ماہر نہيں بتا سکتے۔ يہ علم اللہ نے اپنے نبيوں پر اتارا۔ ان کے ذريعےسےآگے ہم تک آيا کہ جب انسان اللہ کي نافرماني کرتے ہيں تو پھر زمين کپکپاتي ہے۔ جب اللہ کے حکم ٹوٹتے ہيں تو پہر ہوائيں پاگل ہو جاتي ہيں، اور پاني منہ زور ہو جاتے ہيں، اور بادل گرجنے لگتے ہيں اور پتھر برسنے لگتے ہيں، اور عائشہرضي اللہ عنہا سے پوچھا گيا۔۔۔زلزلے کيوں آتے ہيں؟

آپ نے ارشاد فرمايا۔۔۔

"جب لوگ زنا کرتے ہيں بے باکي کے ساتھ"

غور سے سنو اماں عائشہ رضي اللہ عنہا جواب ديتي ہيں زلزلے کيوں آتے ہيں؟ يہ آج کے کم عقل دانشوروں کا جواب نہيں۔ آج کے پڑھے لکھے جاھلوں کا جواب نہيں ہے۔يہ جواب وحي کا جواب ہے۔جو بے خطا ہے۔ زلزلے کيوں آتے ہيں؟

تو آپ نے فرمايا جب لوگ بے باکي سے زنا کرتے ہيں۔ زنا ايسے کرتے ہيں کہ اس کا گناہ ہونا ہي تصور سے نکل گيا۔فخر سے بتاتے ہيں يہاں دوستي کي وہاں آنکھ لڑائي۔۔۔

الاامان والحفيظ۔۔۔۔

جب لوگ زنا  کرتے ہيں بے باکي کے ساتھ شراب پيتے ہيں کھلم کھلا۔۔۔موسقي کي محفليں سجاتے ہيں سرے بازار ۔۔۔تو پھر اللہ کو آسمانوں پر غيرت آتي ہے۔تو وہ زمين کو حکم ديتا ہے۔انہيں جھنجھنوڑ دو، انيں ہلا دو۔ کب سے ميں ايک حديث بيان کر رہا تھا اور کب سے ميں فرياد کر رہا تھا، روز سمندر اللہ سے پوچھتا ہے ميرے رب اجازت دے ميري لگام ڈھيلي چھوڑ ميں انہيں بہا لے جاؤں۔ روز سمندر پوچھتے تھے يااللہ اجازت دے ہم ان پر چڑھ جائيں۔ زمين روز اللہ سے پوچھتي آرہي تھي، يااللہ مجھے اجازت دے ميں انہيں نگل جاؤں۔ فرشتے روزانہ اللہ سے پوچھ رہے ہيں اے اللہ اگر اجازت دے تو ہم اتر جائيں اور ان کو ہلاک وبرباد کر يں۔مگر ميرا اللہ کہتا آرہا تھا "چلو چلو اپنا کام کرو ميں اپنے بندے کو تم سے بہتر جانتا ہوں۔ ميرے بندے کو اس کے حال پر چھوڑ دو، ميں اسے تم سے بہتر سمجھتا ہوں۔ ميں نے اسے اپنے ہاتھوں سے پيدا کيا ہے،تم اسے نہيں سمجھتے ميں اسے سمجھتا ہوں ميں اس کي پکڑ کو مؤخر کر رہا ہوں، اس لئے مؤخر کر رہا ہوں کہ ميں اس کي توبہ کا انتظار کرتا ہوں۔ اگر تم نے اسے بنايا ہے تو پکڑ لو، ماردو۔اگر ميں نے بنايا ہے، تو ميرے حوالے کر دو۔ ميں راتوں کو بھي جاگ رہا ہوں۔؛

نہ رات تھکاتي ہے نہ دن تھکاتا ہے، اللہ پر دن اور رات برابر، اس پر ماضي، حال اور مستقبل برابر،اس کے در کھلے ہئے رمضان ميں اور زيادہ گئے، عرش پہلے آسمان پر آيا،پکار اٹھے زمين و آسمان کوئي ہے توبہ کرنے والا تو آئے، اللہ معاف کرنے کيلئے آچکا ہے۔کوئي مغفرت کرنے والا تو آئے،اللہ مغفرت کے در کھول چکا ہے۔ کوئي ہے سائل تو آئے اللہ تعالي کے خزانے کھلے ہوئے ہيں۔آجاؤ۔۔۔اللہ سے لے لو۔اللہ تعالي زمين کو بھي روکتا رہا۔۔۔ادھر ان کي فرياد بڑھي۔ادھر ہمارے گناہ بڑھے۔ وہ توبہ کے انتظار ميں باہیں پھلائے کھڑا رہا، جيسے ماں بچے کيلئے باہیں پھلا کے پکارتي ہے،آجا ميرا لعل اور وہ نافرمان ايسا پتھر دل کہ وہ ماں کو رلاتا ہوا قريب ہونے کي بجائے دور ہوا،پيات سے جنا ہوا جسکے لئےدکھ جھيلے جب وہ اتني نافرماني پر اترتا ہے،تو ماؤں کے منہ سے بھي بددعائيں نکلنا شروع ہو جاتي ہيں،اللہ بلاتارہا ہم نے کوئي نہ سني۔ اللہ روکتا رہا ہم نے کوئي نہ رکے، اللہ پکارتا رہا ہمارے کانوں میں موسقي، موسقي اترتي چلي گئي،سننا ہي چھوڑ ديا۔قرآن کيا کہہ رہا ہے؟يہ ہوا کچھ پيغام دے کر گئي ہے۔۔۔ يہ کالا بادل کچھ کہاني سنا کر گيا ہے۔۔۔ يہ گرجنے والي بجلياں مجھے کچھ کہہ کر گئي ہيں۔۔۔يہ ہلنےوالي زمين کچھ پيغام  دے رہي ہے۔۔۔ ليکن آہ۔ کان بند رہے، آنکھوں پر پردے آگئے، دل نکال کر پھينک ديے اور پتھر وہاں فٹ کر ديا۔ احساسات کي دنيا کو اجاڑ کے ويران کر ديا۔صحراؤں جيسي ويراني چھا گئي۔ جنگلوں جيسي وحشت چھا گئي۔ اللہ پکارتا رہا ہم نے کوئي نہ سني۔۔۔ اللہ بلاتا رہا کوئي نہ آيا۔۔۔ وہ بار بار صدائيں ديتا رہااور انسان اتنا دور ہوتا گيا۔۔۔ وہ رحمت کے جتنے دروازے کھولتا رہا اور انسان اتنا دلير ہوتاگيا۔۔۔وہ اپني ستاري کي چادر کو گھيرا کرتا چلا گيا اور ہم اتنادلير ہوتے چلے گئے، ادھر زمین فرياد کر رہي تھي۔اے اللہ تو مجھے کب اجازت دے گا؟ادھر پاني فرياد کر رہے تھے۔ادھر فرشتے فرياد کر رہے تھے۔ادھر انسان کي توبہ تھي ہونے کا نام نہيں لے رہي تھي۔اللہ مہلت دے رہا اور اعلان کر رہا تھا کہ جب آئے گا اسکي توبہ  قبول کروں گا۔٧٠ يا ٨٠سال کي عمر ميں آئے جس عمر ميں آئے گا يہ طنعہ نہيں سنے گا پہلے کہاں تھے؟اب کيوں آئے ہو؟يہ طعنہ نہيں سنے گا دھرتي تو گناہوں سے بھردي،رواں داغ داغ تم نے گناہوں سے کر ديا اب ميرے پاس کيا لينے آئے ہو؟يہ کبھي نہيں سنے گا جس عمر ميں اور جس حال ميں توبہ قبول کرے گا اپنے رب کو استقبال ميں پائے گا۔ کيسا استقبال؟جو توبہ کرنے کيلئے اس کے گھر کي طرف بڑھتا ہے۔تو ميرا اللہ کہتا ہے کہ ميں عرشوں سے اتر کر اسکا استقبال کرتا ہوں۔

اتينا سب کچھ ہونے کے باوجود بھي زنا کے اڈے چلتے رہے،عزتيں نيلام ہوتي رہيں، جوانياں داغ دار ہوتي رہيں،شراب کي بھٹياں چلتي رہیں، بڑے بڑے ہوٹل زنا کے اڈے بن گئے،شرب خانے بن گئے۔گھر گھر ميں موسيقي کي محفليں آباد ھوگئيں، کہيں گھنگرو باندھنے والي ناچنے کيلئے آئيں، کہيں ٹي وي نے خود گھنگرو باندھ ليے، ہر طرف موسيقي ہي موسيقي،ہر طرف راگ ورنگ۔جب نسل موسيقي ميں ڈوب جائے،جب نسل گانوں ميں ڈوب جائے تو پھراُنہیں قرآن سنائي نہیں ديتا۔انہيں آتا ہوں بادل کچھ کہتا ہے مگر انہيں کچھ سنائي ديتا ہے۔ مرتے ہوئے لوگ اٹھتے ہوئے جنازے، رونے والوں کے نوحے يہ سب کچھ بتا رہے ہيں کہ توبہ کا جہان ہے،پر کچھ آنکھيں پتھرا جاتي ہيں، کچھ کانوں ميں ڈانٹ پڑ جاتے ہيں، دل نکل کر پتھر فٹ ہو جاتے ہيں۔تو کان پر جوں نہيں رنگتي۔زمين اللہ کي ہے۔ کب سے پکار رہي تھي؟اللہ نے اجازت دے دي، يہ بھي شکر ہوا کہ ساري زمين کو اجازت نہيں ملي۔يہ بھي احسان ہوا کہ بھرپور بڑے شہروں کي دھرتي کو اجازت نہيں ملي۔يہ بھي احسان ہوا کہ ابھي سمندروں کے پانيوں کي لگام ڈھيلي نہيں چھوڑي گئي۔ يہ بھي فضل ہوا کہ آسمان کے فرشتوں کو بھي نيچے اترنے کا حکم نہيں ملا۔ چھوٹے سے کونے کو ہلايا گيا۔کائنات زيرو زبر ہوگئي اور ميرے بھائيو۔۔ يہ بربادياں،يہ گھروں کا ٹوٹنا، يہ برستے ہوئے آنسوں يہ پيغام ہيں،يہ ميرے رب کي طرف سے پيغام ہيں۔۔۔ دوڑو اللہ کي طرف دوڑو اللہ کي طرف۔۔۔اے ايمان والو۔۔۔ توبہ کر لو۔۔۔ اللہ پکار رہا ہےاور يہ کھلي نشانياں ہيں ميرے بھائيو۔۔۔ يہ زمين اندھي ہو کر نہيں ٹکرائي، اسے اللہ نے ٹکراديا۔چھوٹے بھي اللہ کے بڑے بھي اللہ کے،معصوم بھي اللہ کے اور بوڑھے بھي اللہکے۔ وہ بچے کو موت دے وہ حق پر ہے۔وہ بوڑھوں کو موت دے وہ حق پر ہے۔وہ جوانوں کو موت دے وہ حق پر ہے۔وہ ہنستي بستي بستياں اجاڑ دے وہ حق پر ہے۔اسے يہ بتانے کا حق حاصل ہے کہ يہ مٹ جانے کا جہاں ہے۔ جو لوگ چلے گئے، اللہ کي ذات سے مکمل اميد ہے، کہ رمضان کي برکت سے ان کي مغفرت ھو گئي ہو گي۔

مسئلہ ميرا اور آپ کا ہے کہ اتنا بڑا حادثہ بھي توبہ کے ليے متوجہ نہيں کر رہا ہے، توبہ کے ليےکوئي سامان پيدا نہيں ہو رہا ہے۔ميرے بھائيو۔۔۔ يہ رمضان جو پہلا عشرہ رحمت کا عشرہ تھا۔يہ رحمت کے عشرے ميں کتنا میں نے اور آپ نے رب کو ناراض کر ديا کہ رحمت کے عشرے ميں زمين کپکپا گئي۔ميرا رب کب سے ديکھ رہا تھا؟ سرے بازار گھنگرو باندہ کر ناچنے والياں، سرے بازار ناچ گانے کي محفليں، وہ کب سے ديکھ رہا تھا؟سرے بازار جھوٹ پر ، سود پر۔ ميرے محبوب صلي اللہ عليہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے بتايا تھا جب حکومت کے افسر سرکاري خزانہ جيب ميں ڈال ليں گے۔عوام کو کچھ نہ ملے گا،سب بڑے صاحبان کي جيب ميں جائے گا، سيکريٹريوں کے گھر بھريں گے۔افسروں کے گھر بنيں گے۔وزيروں کے گھر بھريں گے۔اور عوام کي جيب سے نکلا ہوا پيسہ حکومت کي عياشيوں ميں اڑايا جائے گا۔جب حکومت بد ديانت ہو جائے گي۔ کلرک سے لے کر سيکريڑي تک سب بد ديانت،ريڈر سے لے کر  بڑے جج تک سب ظالم۔ جس ديس ميں مظلوم کو پيسے کے بغير انصاف نہ ملتا ہو، پھر بھي ظالم اپني طاقت کے بل بوتے پر دندناتے اور مظلوم کي آہيں عدالتوں کي ديواروں سے ٹکرا کر واپس آجائيں۔جس ديس کا وکيل زاني کو بچانے کے ليے فائل تيار کرنے پر آمادہ ہو۔جس ديس کا وکيل قاتل کو بچانے کے ليے کيس لڑنے کو تيار ہو، جس ديس کا جج چند سکوں کے عوض ظالم کو چھوڑ دے اور مظلوم کو آہوں اور سسکيوں کے حوالے کر دے۔جس ديس کا تاجر سود اپني گھٹي ميں ڈال چکا ہو۔ جس ديس کا نوجواں شراب ، زنا اور موسيقي ميں ڈوب چکا ہو۔ جس ديس کے حکمران ظلم وستم ميں جانوروں کو بھي مات کر رہاہو۔جس ديس کي بچياں کپڑوں سے بے نياز ہوتي چلي جا رہي ہوں۔ جس ديس کي مائيں نوحے کر کر کے ان کے گلے خشک ہوچکے ہوں۔ اور غم سے ان کے سينے پھٹ گئے ہوں۔اور اولاد کے کان پر جوں تک نہ رينگتي ہو۔جس ديس کے بوڑھے باپ کو جواں اولاد آسرا دينے کو تيار نہ ہو۔جہان بھائي بھائي کا گلا کاٹتا ہو۔اور لوگ بيويوں کا دم بھريںگے، بيويوں کے فرمانبردار ہو جائيں گے۔ اور لوگ ماؤں کے نافرمان ہو جائيں گے۔ وہاں يہ سب يہ سب نہيں ہوگا تو کيا ہو گا؟؟؟ پھر کہتے ہيں کہ زلزلہ کيوں آ گيا؟ ميں يہ کہتا ہوں يہ پہلے کيوں نہيں آيا؟ يہ اتني دير کيوں آيا؟

جب حضرت آمنہ کو دفن کر ديا گيا ايک معصوم بچہ۔۔۔ اور اللہ نبي کے قدم نہيں اٹھ رہے، ماں کي قبر پر گر گئے۔ ايک چھ سال کے بچے پر کتني بڑي قيامت ٹوٹي۔ ويرانے ميں ماں اٹھا لي گئي۔نہ مکہ ميں موت آئي نہ مدينے ميں موت آئي۔ بيچ جنگل صحرا، کالے پہاڑ،سنگلاخ چٹانوں ميں سب سے محبوب ہيں۔ ديکھو اللہ کا نظام کيا ہے؟ يہ پھولوں کا جہاں نہيں ہے۔کہيں کہيں پھول مليں گے۔ کانٹوں بھري وادياں ہيں۔ دامن بچا کر گزر جاؤ۔ سب سے محبوب کو جسکي خاطر سب کچھ بنايا۔ جس کو اپنے سامنے کھڑا کر کے ہم کلام ہونے کا شرف بخشا۔"قاب قوسين" کے مقام پر پہنچايا، ختم نبوت کے تاج سے سجايا۔جسکي قرآن نے قسميں کھائيں "والقرآن الحکيم" جس کي نبوت پر قسميں کھائيں۔۔۔"يٰسين،والقرآن الحکيم ا نک لمن المرسلين۔۔۔ "اس پر تو اتني شفقت ہوتي کہ ماں مرتي ہي نہ،جب آپ صلي اللہ عليہ وسلم جوان ہوتے تو تب مرتي۔ مدينے ميں مرتييمکہ ميں مرتي، جنگل ميں ماں مري، آپ قبر کو لپٹ گئے۔ ان ماؤں کے جب کليجے چيرے جاتے ہيں۔تو پھر آسمان پھٹ جائيں تو بھي چھوٹي مصيبت ہے۔پھر جب پتھر برسيں تو بھي چھوٹي مصيبت ہے۔ زمين کپکپائے چھوٹي مصيبت ہے۔ماؤں کي نافرمانياں ہوں، جواں اولاد کو ماؤں کي حالت پوچھنے کيلئے وقت ہي نہ ہو اور ماں کبھي ايک در پر دھکے کھائے اور کبھي دوسرے در پر دھکے کھائے، سات بيٹوں کو جنم دينے والي کو ايک بيٹا سنبھالنے کو تيار نہيں۔ چار بيٹوں کو گود پال کر اٹھانے والي ايک بيٹا اس کا سايہ دينے کو تيار نہیں ہے۔اور جب لوگ دوست کو اکرام کريں گے اور باپ سے بدتميز ہوجائيں گے وہ باپ جو رات جاگا ہے اس کو سلانے کے ليے۔۔ جس نے گرمي سردي سے جنگ لڑي ہے۔اپنے بچوں کو ٹھنڈي ہواؤں سے بچانے کے ليے گرم تھپيڑوں سے بچانے کے ليے۔۔۔ ساري چلائے، سارا دن ہل چلائے، سارا دن رہڑي کھنچي،سارا دن تانگہ چلايا،سارا دن فيکٹريوں کي خاک چھاني، سارا دن دھکے کھائے۔۔۔ايک مسکراہٹ ديکھنے کے ليے اپني جوانيوں کو بيچ ديا۔ وہ باپ اس حال پر پہنچا تو اسے دھکے دے ديے۔ دوست کے ليے استقبال، باپ کو دھکے ديے جا رہے ہيں۔

قبيلے کے سردار فاسق بن گئے،ظالم بن گئے، بد کار بن گئے، ووٹ بکے ، انسان بکے،يہ اليکشن ميں کيا ہوا؟کتنے ووٹ اور کتنے انسانوں کي بولياں لگيں؟ کيسے کيسے ضمير کے سودے ہوئے؟ کيسے کيسے فاسق و فاجر تخت پر بيٹھ گئے؟ حکومت کيسے انسانوں کے ہاتھ ميں ہے؟گانے کي محفليں سج گئيں،گھنگروں کي جھنکار اور پائل کي چھنکار نے پہاڑوں ميں سوراخ کر ديے۔ ديکھنے والے بھي مسلمان اور ناچنے والے بھي مسلمان۔اس پر پيسے لينے والے بھي مسلمان اور اسے سرمايہ سمجھنے والے بھي مسلمان۔آج بھي جب گانے بجانے کي صدائيں ہوں،گانے والياں معززومحترم ہو جائيں اور گانے کے آلات عام ہو جائيں۔يہ سب ہوا تو يہ ہوا۔ قرآن مجيد سے ناآشنا اور گانوں سے آشنا،قرآن مجيد ايک بھولا بسرا پيغام بنا، ايسي بني کہ ملک کے طول و عرض کو لپيٹ ميں لے ليا۔آج بھي مظلوم سسک رہا ہے۔ ايک ايف آئي آر کٹواني ہو پہلے پيسے دو پھر کٹوائي جائے گي۔ اتنے بڑے حادثے کے بعد بھي يہ ہو رہا ہے۔اور شراب پي جائے گي۔اور اس امت کے لوگ پہلي امت کے لوگوں کو پاگل اور ديوانہ کہيں گے۔يہ جب سب کچھ ہو گا تو پھر کيا ہوگا؟جب حکومت کے کارندے حکومت کا مال خود کھا جائيں گے۔جب امانت کو ہڑپ کر ديا جائے گا، جب زکوہ کو انکار ہو جائے گا،جب علم دين کو دينا کے ليے حاصل کيا جائے گا، جب لوگ بيويوں کے فرمانبردار ہو جائيں گے،اور ماؤں کے نافرمان ہو جائيں گے، باپ کو دھکے ديں گے، دوست کا اکرام کريں گے۔قبيلے کي سردارياں فاسق و فاجر کے ہاتھوں ميں ہوں گي۔ناچ گانے کي کي محفليں عام ہو جائيں گي۔ جب يہ سب کچھ ہو گا تو کيا ہو گا؟ ميرے نبي صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا۔۔۔پھر انتظار کرو، پھر زلزلے آئيں گے۔ پھر ہوائيں پاگل ہو جائيں گي۔پھر آسمان سے پتھر برسيں گے۔پھر تم کھڑے کھڑے زمين ميں دھنسا جاؤ گے۔

ميرے بھائيو۔۔۔ہم بچ گئے۔ہمارے بھائي ہمارے ہي بھائي ہم سے اچھے مسلمان تھے، لگتا ہے۔جيسا اللہ تعالي نے ان کو اس دھرتي ميں رہنے کے قابل نہیں سمجھاکہ يہ گندا جہاں ہے،ظلم وستم کا جہاں ہے۔زنا اور موسيقي کا جہاں ہے تو ميرے پاس آجاؤ۔سارے چھوٹے بچے جو مرتے ہيں بے شک منظر رلا دينے ہے۔آنکھ اشک بار ہے دل پارہ پارہ ہے،نہ کبھي ايسا صدمہ ديکھا تھا،سنے تو تھے۔ قرآن مجيد بھرا ہے۔

ميرے بھائيو۔۔۔توبہ کرو۔۔ميں کب سے پکار رہا ہوں؟توبہ کر لو، گھر ميں آفت آگئي،معصوم بچوں کے آنسو دل چير کر رکھ ديتے ہيں۔ ليکن پھر يہ خيال آتا ہے،اللہ تو ستر ماؤں سے زيادہ پيار کرتا ہے۔ليکن اس کے پيار کي ادا ميں نہيں سمجھ پارہا ہوں۔اس کي حکمتوں کو ميں نہيں جانتا ہوں۔ايک اخبا کي تصوير سارا دن رلاتي ہے۔نہ روٹي اچھي لگتي ہے نہ اولاد اچھي لگے۔نہ بيوی اچھي لگے۔ميرا تو کسي سے رشتہ کوئي نہيں سوائے اسلام کے۔ وہ اللہ جس نے اپنے ہاتھوں سے بنايا۔ جس نے خود وجود بخشا،جو ماؤں سے ستر گنا زيادہ پيار کرتا ہے،اس کي کياحکمتيں ہيں ہميں معلوم نہيں، ليکن ہم ايمان لائے، اللہ حاکم ہے۔اسکا حکم ماننا فرض ہے۔اللہ حکيم ہے۔اسکا کوئي فيصلہ حکمت سے خالي نہيں ہے۔ہميں سمجھ ميں آئے يا نہ آئے، وہ عزيز ہے،وہ حکيم ہے، وہ کريم ہے،وہ حنان ہے،وہ منان ہے،پہلي قوموں کے قصے قرآن مجيد ميں اس ليے سنائے ہيں کہ عبرت حاصل کريں۔ تو ميرے بھائيو۔۔۔اللہ کا واسطہ ديتا ہوں، جس اللہ نے ہميں مہلت دے دي، جس اللہ نے ہميں وقت دے ديا، ہم توبھ کر ليں۔نبي اللہ کے پاس،نيک لوگ اللہ کے پاس، پيچھے کچرا ہے۔ ميرے اور آپ جيسے، اگر توبہ نہ ہوئي تو اس سے بڑي سنگين صورت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کتني تسلي تھي اس زمانے کے مسلمانوں کو کہ اللہ تعالينے کہہ ديا جب تک آپ صلي اللہ عليہ وسلم ان کے درميان ہيں ميں ان کو عذاب نہيں دوں گا۔ بنوخزاعہ پر آفت آئي تھي، وہ فريادي بن کر مدنيہ پہنچے۔آپ صلي اللہ عليہ وسلم عصر کا وضو فرما رہے تھےکہ ايک وفد پہنچا۔ انہوں نے اشعار ميں اپنا قصہ سناياتو آپ صلي اللہ عليہ وسلم ايک دم کھڑے ہو گئے۔اور جب تک بنوخزاعہ کا بدلہ نہيں ليا، آپ صلي اللہ عليہ وسلمنے چين سےبيٹھنے کا نام نہيں ليا، فتح مکہ بنوخزاعہ کي فرياد پر ہوئي ہے۔تو مجھے خيال آرہا تھاکہ اب ہم کس کے پاس جائيں؟ہم کس کے پاس جا کر اپناغم سنائيں؟آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا۔۔۔ ميں نمازپڑھا رہا ہوتا ہوں، دائيں بائيں گھر ساتھ ملے ہوئے تھے تو مجھے کسي بچے کي رونے کي آواز آتي ہے۔ماں مسجد ميں نماز پڑھنے آئي ہوئي ہوتي ہے۔تو آپ صلي اللہ عليہ وسلم فرماتے ہيں کے ميں نماز مختصر کر ديتا ہوں تاکہ جلدي سے ماں جاکر بچے کو گود ميں اٹھا لے اور دودھ پلالے۔اب تو لاکھوں بچے جن کي مائيں ہي نہيں ہيں۔ تو کيا ميرا نبي نہ رويا ہو گا؟ کيا اس تک کہاني نہ پہنچي ہوگي؟کيا اس کے آنسو نہ بہے ہوں گے؟ تو ميرے بھائيو۔۔۔ميں تمہيں اللہ کا واسطہ ديتا ہوں، اس مبارک مہنيے ميں جبکہ اللہ خود کہہ رہا ہے کہ آجاؤ۔آجاؤ۔توبہ کر لو۔توبہ کر کے اٹھو يہاں سے۔بن توبہ کے بغير نہ جانا۔ کوئي گانا سننے والا ہے تو ميں اسے اللہ کا واسطہ ديتا ہوں کہ آج توبہ کر کے جاؤ۔اگر خدانخواستہ شراب پينے والا ہے، بدکاري کرنے والا ہے،ميں ہاتھ جوڑتا ہوں،اللہ کے واسطےتوبہ کر کے اٹھوماں کا نافرمان، کوئي باپ کا نافرمان،کوئي بھائي سے لڑا ہوا،کوئي سود کھانے والا، کوئي امانت ہڑپ کرنے والا جو جتني ميں نے باتيں بتائي ہيں اس مین مبتلا ہے، آج اشک بھاؤ ندامت کے،کوئي ايک قطرہ نکالو، اگر نہيں نکال سکتے آہ تو کر دو،تمہاري آہ بھي سب کچھ دھوکر رکھ دے گي۔ايک آنسو کا قطرہ وہ کام دکھاتا جو سمندر بھي نہيں دکھا سکتا۔ ايک آنسو کا قطرہ وہ دھوتا ہےجو سمندر نہيں دھو سکتے۔ميرے بھائيو۔۔۔آج ايسا کوئي اللہ کو رو کر دکھاؤ کہ اللہ تعالي کي رحمت متوجہ ہو جائے۔اور اللہ تعالي ساري امت پر سے عذاب و بلا کو ٹال دے۔ ميرے بھايئو۔۔۔پتہ نہيں کس کي توبہ پسند آئے،اور ساري امت پر سے عذاب و بلا کے فصيلے ہٹ جائيں۔ ميں سارے بھائيوں کي منت کرتا ہوں کہ توبہ کرو اور اللہ سے معافي مانگو۔ تو ميري تمام بھائيوں کي خدمت ميں گذارش ہے، کہ دو نفل توبہ کہ پڑھ کر اللہ کے در پر جھک جاؤ اور خوب دعا کرو۔۔۔

مضمون ارسال کرنے پر"چوھدري محمد ظفر اقبال" کو اللہ جزا دے آمين ثم آمين

 
يہ صفحہ اپنے احباب کو بھيجيں تمام جملہ حقوق بحق من موجي ويب ڈويلپرز محفوظ ہيں